EN हिंदी
دست بردار ہوا میں بھی طلب گاری سے | شیح شیری
dast-bardar hua main bhi talabgari se

غزل

دست بردار ہوا میں بھی طلب گاری سے

سہیل اختر

;

دست بردار ہوا میں بھی طلب گاری سے
اب کہیں جا کے افاقہ ہوا بیماری سے

خاک میں خود کو ملایا تو جڑیں پائی ہیں
کیسے روکے گا کوئی مجھ کو نموداری سے

ٹوٹ ہی جاتے ہیں اخلاص کے پتلے آخر
سو مجھے بچ کے نکلنا ہے اداکاری سے

اب بھی کچھ چیزیں ہیں بازار میں جو آئی نہیں
اب بھی منکر ہے کوئی میری خریداری سے

ہم اکہرے کبھی بر وقت سمجھ پاتے نہیں
کام کر جاتا ہے چپ چاپ وہ تہہ داری سے

دل نادان الٹ دیتا ہے اکثر یہ بساط
عقل یوں چال بہت چلتی ہے عیاری سے

جب اچانک ہی ہر اک فیصلہ ہونا ہے یہاں
مجھ کو بھی کوئی علاقہ نہیں تیاری سے

سخت جانی کے ملے کتنے ہی اعزاز مجھے
اور ملتا بھی کیا امید کی بے زاری سے

جلتا اوپر سے ہوں اندر سے نکھرتا ہوں سہیلؔ
خود کو یوں آگ لگاتا ہوں میں فن کاری سے