دریا ہیں پھر بھی ملتے نہیں مجھ سے یار لوگ
جرأت کہاں کہ صحرا سے ہوں ہم کنار لوگ
جادو فضا کا تھا کہ ہوا میں ملا تھا زہر
پتھر ہوئے جہاں تھے وہیں بے شمار لوگ
اب سایہ و ثمر کی توقع کہاں رکے
سوکھے ہوئے شجر ہیں سر رہ گزار لوگ
دہشت کھلی فضا کی قیامت سے کم نہ تھی
گرتے ہوئے مکانوں میں آ بیٹھے یار لوگ
اک دوسرے کا حال نہیں پوچھتا کوئی
اک دوسرے کی موت پہ ہیں شرمسار لوگ
سورج چڑھا تو پگھلی بہت چوٹیوں کی برف
آندھی چلی تو اکھڑے بہت سایہ دار لوگ
غزل
دریا ہیں پھر بھی ملتے نہیں مجھ سے یار لوگ
منظر سلیم