چراغ شہر سے شمع دل صحرا جلانا
اور اس کی لو سے محفل خانۂ دنیا جلانا
تماشے کیا دکھاتا ہے مرا بارود ہستی
تمہیں مجھ کو جلانا ہے تو پھر زندہ جلانا
بڑے سورج بنے پھرتے ہو تم اک رات آ کر
ذرا میرا چراغ موسم سرما جلانا
اسے مجھ سے بس اتنا ہی تعلق ہے کہ ہر رات
چراغ جسم اپنا پیش آئینہ جلانا
چلو آنکھوں پہ آنکھیں رکھ کے ہم اک ساتھ رولیں
یہ ضد چھوڑو بہت اب ہو گیا جلنا جلانا
جو ہر بار اپنی خاکستر سے اٹھ پڑتا ہے زندہ
تو ہم نے فرحتؔ احساس اب تجھے چھوڑا جلانا
غزل
چراغ شہر سے شمع دل صحرا جلانا
فرحت احساس

