EN हिंदी
چراغ مہ سیں روشن تر ہے حسن بے مثال اس کا | شیح شیری
charagh-e-mah sin raushan-tar hai husn-e-be-misal us ka

غزل

چراغ مہ سیں روشن تر ہے حسن بے مثال اس کا

سراج اورنگ آبادی

;

چراغ مہ سیں روشن تر ہے حسن بے مثال اس کا
کہ چوتھے چرخ پر خورشید ہے عکس جمال اس کا

صنم کی زلف کے حلقے میں ہے جیوں جیم کا نقطہ
عجب ہے خوش نما اس عارض گلگوں پہ خال اس کا

عیاں ہوتا ہے جیوں کر سرو پانی کے کنارے پر
ہوا یوں جلوہ گر آنکھوں میں قد نونہال اس کا

جدا جب سیں ہوا وو دلبر جادو نظر مجھ سیں
جدا ہوتا نہیں یک آن خاطر سیں خیال اس کا

مجھے ہے آرزو دل میں تری چاہ زنخداں کی
نہیں درکار حوض کوثر و آب زلال اس کا

گرفتار ہوس کیا لذت دیدار کوں پاوے
جدا جو کوئی ہوا ہے آپ سیں پایا وصال اس کا

سراجؔ اے شعلہ رو ہے کون سا سو میں نہیں واقف
مجھے کیا پوچھتا ہے پوچھ پروانے سیں حال اس کا