چکھی ہے لمحے لمحے کی ہم نے مٹھاس بھی
یہ اور بات ہے کہ رہے ہیں اداس بھی
ان اجنبی لبوں پہ تبسم کی اک لکیر
لگتا ہے ایسی شے تھی کبھی اپنے پاس بھی
منسوب ہوں گی اور بھی اس سے حکایتیں
یہ زخم دل کہ آج ہے جو بے لباس بھی
پھیلا ہوا تھا صدیوں تلک اس کا سلسلہ
دریا کے ساتھ ساتھ بڑھی اپنی پیاس بھی
ناصرؔ کو رو رہا ہوں کہ تھا میرا ہم سخن
گو اس سے ہو سکا نہ کبھی روشناس بھی

غزل
چکھی ہے لمحے لمحے کی ہم نے مٹھاس بھی
خلیلؔ الرحمن اعظمی