EN हिंदी
برا ہو گیا یا بھلا ہو گیا | شیح شیری
bura ho gaya ya bhala ho gaya

غزل

برا ہو گیا یا بھلا ہو گیا

ہری چند اختر

;

برا ہو گیا یا بھلا ہو گیا
محبت میں جو ہو گیا ہو گیا

نہ پوچھو سر حشر زاہد کا حال
سمجھتے تھے کیا اور کیا ہو گیا

یہیں ختم ہے بحث معیار حسن
جو دل لے گیا دل ربا ہو گیا

الٰہی ترا بندہ اور بت پرست
مگر یہ کہ مجبور سا ہو گیا