EN हिंदी
بجھ گئی دل کی روشنی راہ دھواں دھواں ہوئی | شیح شیری
bujh gai dil ki raushni rah dhuan dhuan hui

غزل

بجھ گئی دل کی روشنی راہ دھواں دھواں ہوئی

مخمور سعیدی

;

بجھ گئی دل کی روشنی راہ دھواں دھواں ہوئی
صبح چلے کہاں سے تھے شام ہمیں کہاں ہوئی

شوق کی راہ پر خطر طے تو کر آئے ہم مگر
نذر حوادث سفر دولت جسم و جاں ہوئی

عشق و جنوں کے واردات دیدہ و دل کے سانحات
بیتی ہوئی ہر ایک بات دور کی داستاں ہوئی

کوئی بھی اب نہیں رہا جس کو شریک غم کہیں
دور طرب کی یاد بھی شامل رفتگاں ہوئی

لٹ گئی کیسے دفعتاً روشنیوں کی انجمن
آ کے کہاں سے خیمہ زن ظلمت بے کراں ہوئی

کس کو خبر کہ ہم نے کیا خواب بنے ہیں عمر بھر
کس سے کہیں کہ زندگی کس لیے رائیگاں ہوئی

طرز بیاں تو بے قیاس تھے ترے غم زدوں کے پاس
بول اٹھی نگاہ یاس بند اگر زباں ہوئی