EN हिंदी
بے رنگ بڑے شہر کی ہستی بھی وہیں تھی | شیح شیری
be-rang baDe shahr ki hasti bhi wahin thi

غزل

بے رنگ بڑے شہر کی ہستی بھی وہیں تھی

فرحت احساس

;

بے رنگ بڑے شہر کی ہستی بھی وہیں تھی
اک رنگ اڑاتی ہوئی تتلی بھی وہیں تھی

بازار کے جادو کی نہ تھی کاٹ مرے پاس
جو چیز بری تھی وہی اچھی بھی وہیں تھی

بس اک ترا چہرہ ہی نہ تھا محفل گل میں
بیلا بھی تھا چمپا بھی چنبیلی بھی وہیں تھی

اس باڑھ میں کرتا تھا جہاں بھی میں کنارہ
اندر سے ابلتی مری ندی بھی وہیں تھی

سیلاب بدن اس کا جو آیا تو گیا میں
ہر چند مرے جسم کی کشتی بھی وہیں تھی

اے عشق جہاں تو نے مجھے جمع کیا تھا
مٹی مری آخر کو بکھرنی بھی وہیں تھی

افسوس گئی قبر بھی احساسؔ میاں کی
یہ قبر جہاں تھی مری مٹی بھی وہیں تھی