بزم عالم میں سدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں
منکر روز جزا تم بھی نہیں ہم بھی نہیں
سر پھری تند ہوا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں
ملک دشمن بخدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں
کس کے ایما پہ ہے یہ خون خرابہ یہ فساد
قائل جور و جفا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں
جان آپس کی برائی میں گنوا دیں اپنی
اس قدر خود سے خفا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں
ہم کو دستور نے بخشے ہیں برابر کے حقوق
کوئی کمتر نہ سوا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں
جذب ہے خاک وطن میں جو بزرگوں کا لہو
اس کی مٹی سے جدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں

غزل
بزم عالم میں سدا ہم بھی نہیں تم بھی نہیں
غنی اعجاز