بزم آخر ہوئی شمعوں کا دھواں باقی ہے
چشم نم میں شب رفتہ کا سماں باقی ہے
کٹ گئی عمر کوئی یاد نہ منظر نہ خیال
ایک بے نام سا احساس زیاں باقی ہے
کس کی جانب نگراں ہیں مری بے خواب آنکھیں
کیا کوئی مرحلۂ عمر رواں باقی ہے
سلسلے اس کی نگاہوں کے بہت دور گئے
کار دل ختم ہوا کار جہاں باقی ہے
ہائے اب تک وہی انداز نظر ہے اس کا
اب بھی اک سلسلۂ وہم و گماں باقی ہے
آج اک عمر میں اس آنکھ نے پوچھا ہے سلیمؔ
اب بھی کیا پہلی سی بے تابئ جاں باقی ہے
غزل
بزم آخر ہوئی شمعوں کا دھواں باقی ہے
سلیم احمد