EN हिंदी
بندہ اگر جہاں میں بجائے خدا نہیں | شیح شیری
banda agar jahan mein bajae KHuda nahin

غزل

بندہ اگر جہاں میں بجائے خدا نہیں

شیخ ظہور الدین حاتم

;

بندہ اگر جہاں میں بجائے خدا نہیں
لیکن نظر کرو تو خدا سے جدا نہیں

نقطے کا فرق ہے گا خدا اور جدا میں دیکھ
صورت میں گر چھپا ہے بمعنی چھپا نہیں

ہر شے کے بیچ آپ نہاں ہو عیاں ہوا
دیکھا تو ہم نے اس سا کوئی خود نما نہیں

حیران عقل کل کی ہے اس کی صفت کو دیکھ
سب جا میں جلوہ گر ہے مگر ایک جا نہیں

لذت چکھا کے دل کے تئیں ہجر و وصل کی
حاتمؔ سے مل رہا ہے اور اب تک ملا نہیں