بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے
مکمل قید غربت ہو رہی ہے
میں خود ترک تعلق پر ہوں مجبور
کچھ ایسی ہی طبیعت ہو رہی ہے
جفا ان کی دل زود آشنا پر
بہ مقدار محبت ہو رہی ہے
خدا سے مل گیا ہے حسن کافر
خدائی پر حکومت ہو رہی ہے
نہیں تنہائی زنداں مکمل
مجھے سایہ سے وحشت ہو رہی ہے
یہ تم ہنس ہنس کے باتیں کر رہے ہو
کہ تقسیم جراحت ہو رہی ہے
اگر مشرب نہیں بدلا ہے سیمابؔ
تو کیوں تجدید بیعت ہو رہی ہے

غزل
بدن سے روح رخصت ہو رہی ہے
سیماب اکبرآبادی