ایام صرف شام و سحر ہو کے رہ گئے
کیسے عجیب لوگ تھے گھر ہو کے رہ گئے
ہم کو پسند آ گیا ساحل کا مشورہ
کشتی کی لکڑیاں تھے شجر ہو کے رہ گئے
مٹی کے اس مکان نے دھوکہ دیا ہمیں
صحرا نورد خاک بسر ہو کے رہ گئے
آنکھیں جھپک کے رہ گئیں دل کی وفات پر
سیلاب صرف دیدۂ تر ہو کے رہ گئے
پہلے تو اپنے پاؤں زمیں سے جدا ہوئے
پھر یوں ہوا کہ شہر بدر ہو کے رہ گئے
غزل
ایام صرف شام و سحر ہو کے رہ گئے
فرحت احساس

