اشک غم وہ ہے جو دنیا کو دکھا بھی نہ سکوں
اور گر جائے زمیں پر تو اٹھا بھی نہ سکوں
یہ مرے غم کا فسانہ ہے رہے گا لب پر
تیری روداد نہیں ہے کہ سنا بھی نہ سکوں
پرتو حسن ہوں اس واسطے محدود ہوں میں
حسن ہو جاؤں تو دنیا میں سما بھی نہ سکوں
تیز کچھ وقت کی رفتار نہیں ہے لیکن
تم اگر ساتھ نہ دو پاؤں بڑھا بھی نہ سکوں
اب وہی لوگ بگاڑی ہے جنہوں نے قسمت
چاہتے ہیں کہ میں تقدیر بنا بھی نہ سکوں
آج ناکام سہی کل کا بھروسہ ہے مجھے
عشق پھر کیا جو تجھے اپنا بنا بھی نہ سکوں
دل کہاں ایک سیہ خانہ ہے رنج و غم کا
اس قدر داغ لگے ہیں کہ مٹا بھی نہ سکوں
دل کی گہرائی سے اے دوست ذرا کہہ تو سہی
جان ایسی تو نہیں جس کو گنوا بھی نہ سکوں
عمر گزری کبھی ساقی نے فلکؔ یہ نہ کہا
اتنی پی لے کہ تجھے ہوش میں لا بھی نہ سکوں

غزل
اشک غم وہ ہے جو دنیا کو دکھا بھی نہ سکوں
ہیرا لال فلک دہلوی