EN हिंदी
اچھا سا اختتام بھی تم سے نہ ہو سکا | شیح شیری
achchha sa iKHtitam bhi tum se na ho saka

غزل

اچھا سا اختتام بھی تم سے نہ ہو سکا

نجم الثاقب

;

اچھا سا اختتام بھی تم سے نہ ہو سکا
اس مرتبہ سلام بھی تم سے نہ ہو سکا

سلجھیں نہ گتھیاں کبھی باہر کے خوف کی
اندر کا احترام بھی تم سے نہ ہو سکا

بچوں نے آگ اوڑھ لی چیخوں کے شور میں
ایسے میں کچھ کلام بھی تم سے نہ ہو سکا

خرچہ نہ گھر کا چل سکا حرفوں کو بیچ کر
لہجہ بدل کے نام بھی تم سے نہ ہو سکا

اپنا ہی گھر سنبھالنا بھی کام ہے کوئی
اتنا ذرا سا کام بھی تم سے نہ ہو سکا