آسماں زاد زمینوں پہ کہیں ناچتے ہیں
ہم وہ پیکر ہیں سر عرش بریں ناچتے ہیں
اپنا یہ جسم تھرکتا ہے بس اپنی دھن پر
ہم کبھی اور کسی دھن پہ نہیں ناچتے ہیں
اپنے رنگوں کو تماشے کا کوئی شوق نہیں
مور جنگل میں ہی رہتے ہیں وہیں ناچتے ہیں
تن کے ڈیرے میں ہے جاں مست قلندر کی طرح
واہمے تھک کے جو رکتے ہیں یقیں ناچتے ہیں
کب سے اک خواب ہے آنکھوں میں کہ تعبیر بھی ہے
اس میں گاتے ہیں مکاں اور مکیں ناچتے ہیں
غزل
آسماں زاد زمینوں پہ کہیں ناچتے ہیں
احمد صغیر صدیقی