عارفؔ ازل سے تیرا عمل مومنانہ تھا
ہاں غم یہ تھا کہ فکر کا ڈھب کافرانہ تھا
تو مجھ سے دور رہ کے بھی میرے قریب تھا
ہر چند تو خدا کی طرح تھا خدا نہ تھا
تنہائی بسیط کا وہ عہد یاد کر
جب تیرے پاس کوئی بھی تیرے سوا نہ تھا
تھا اعتماد حسن سے تو اس قدر تہی
آئینہ دیکھنے کا تجھے حوصلہ نہ تھا
میں نے کیا ہے تجھ کو ترے روبرو مگر
کھینچ جائے گا مجھی سے تو مجھ کو پتا نہ تھا
بخشا ہے تو نے میری وفا کو خود اپنا رنگ
ورنہ مری نگاہ میں کوئی صلہ نہ تھا
عمر عزیز راہ نوردی میں کٹ گئی
منزل نے دی خبر کہ مسافر چلا نہ تھا
آئی ہے گلستاں سے مری سمت کس لیے
جب نامہ میرے نام کوئی اے صبا نہ تھا
کنج قفس میں سر بہ گریباں پڑا ہوں میں
عارفؔ چمن میں کوئی مرا ہم نوا نہ تھا

غزل
عارفؔ ازل سے تیرا عمل مومنانہ تھا
عارف عبدالمتین