آنکھوں میں نمی آئی چہرے پہ ملال آیا
اے جلوۂ محبوبی جب تیرا خیال آیا
تھا ان کی توجہ میں ہر جذب طلب میرا
ہر چند مؤدب تھی جب میرا سوال آیا
اس بات پہ بدلی ہے بس چشم کرم ان کی
عشاق کے ہونٹوں پہ کیوں حرف سوال آیا
یا ان کے حسین ابرو آئے ہیں تصور میں
یا محفل ہستی میں رخشندہ ہلال آیا
ہم سجدہ جہاں کر لیں کعبہ وہیں بن جائے
مٹ کر تری الفت میں ہم کو یہ کمال آیا
اب حشر بہ داماں ہے ہر محفل تنہائی
تم آئے تو فرقت کی عظمت پہ زوال آیا
پھر رنگ جنوں برسا پھولوں کی قباؤں پر
یہ کون گلستاں میں آشفتہ نہال آیا
پیغام فناؔ لایا تسکین دل مضطر
وہ آ گئے نظروں میں جب وقت وصال آیا

غزل
آنکھوں میں نمی آئی چہرے پہ ملال آیا
فنا بلند شہری