کیا کھائیں ہم وفا میں اب ایمان کی قسم
جب تار سبحہ رشتۂ زنار ہو چکا
سید یوسف علی خاں ناظم
پھونک دو یاں گر خس و خاشاک ہیں
دور کیوں پھینکو ہمیں گلزار سے
سید یوسف علی خاں ناظم
ناظمؔ یہ انتظام رعایت ہے نام کی
میں مبتلا نہیں ہوس ملک و مال کا
سید یوسف علی خاں ناظم
نہ بذلہ سنج نہ شاعر نہ شوخ طبع رقیب
دیا ہے آپ نے خلوت میں اپنی بار کسے
سید یوسف علی خاں ناظم
محتاج نہیں قافلہ آواز درا کا
سیدھی ہے رہ بت کدہ احسان خدا کا
سید یوسف علی خاں ناظم
کیا میرے کام سے ہے روائی کو دشمنی
کشتی مری کھلی تھی کہ دریا ٹھہر گیا
سید یوسف علی خاں ناظم
خریداری ہے شہد و شیر و قصر و حور و غلماں کی
غم دیں بھی اگر سمجھو تو اک دھندا ہے دنیا کا
سید یوسف علی خاں ناظم
کہتے ہو سب کہ تجھ سے خفا ہو گیا ہے یار
یہ بھی کوئی بتاؤ کہ کس بتا پر ہوا
سید یوسف علی خاں ناظم
کم سمجھتے نہیں ہم خلد سے میخانے کو
دیدۂ حور کہا چاہئے پیمانے کو
سید یوسف علی خاں ناظم

