EN हिंदी
سراج لکھنوی شیاری | شیح شیری

سراج لکھنوی شیر

54 شیر

نہ محتسب کی خوشامد نہ میکدے کا طواف
خودی میں مست ہوں اپنی بہار میں گم ہوں

سراج لکھنوی




قفس سے دور سہی موسم بہار تو ہے
اسیرو آؤ ذرا ذکر آشیاں ہو جائے

سراج لکھنوی




قفس بھی بگڑی ہوئی شکل ہے نشیمن کی
یہ گھر جو پھر سے سنور جائے آشیاں ہو جائے

سراج لکھنوی




پھر بھی پیشانیٔ طوفاں پہ شکن باقی ہے
ڈوبتے وقت بھی دیکھا نہ کنارہ ہم نے

سراج لکھنوی




نذر غم شاید ہر اشک خونچکاں کرنا پڑے
کیا خبر کتنی بہاروں کو خزاں کرنا پڑے

سراج لکھنوی




نماز عشق پڑھی تو مگر یہ ہوش کسے
کہاں کہاں کئے سجدے کہاں قیام کیا

سراج لکھنوی




نہ پی سکو تو ادھر آؤ پونچھ دوں آنسو
یہ تم نے سن لئے اس دل کے سانحات کہاں

سراج لکھنوی




خدا وندا یہ کیسی صبح غم ہے
اجالے میں برستی ہے سیاہی

سراج لکھنوی




خوشا وہ دور کہ جب مرکز نگاہ تھے ہم
پڑا جو وقت تو اب کوئی روشناس نہیں

سراج لکھنوی