رات بھر شمع جلاتا ہوں بجھاتا ہوں سراجؔ
بیٹھے بیٹھے یہی شغل شب تنہائی ہے
سراج لکھنوی
نہ پی سکو تو ادھر آؤ پونچھ دوں آنسو
یہ تم نے سن لئے اس دل کے سانحات کہاں
سراج لکھنوی
نہ محتسب کی خوشامد نہ میکدے کا طواف
خودی میں مست ہوں اپنی بہار میں گم ہوں
سراج لکھنوی
لہو میں ڈوبی ہے تاریخ خلقت انساں
ابھی یہ نسل ہے شائستۂ حیات کہاں
سراج لکھنوی
کیوں دھیان بٹاتی ہے مرا گردش دنیا
ہٹ جا کہ نہ فرق آئے مری لغزش پا میں
سراج لکھنوی
کچھ اور مانگنا میرے مشرب میں کفر ہے
لا اپنا ہاتھ دے مرے دست سوال میں
سراج لکھنوی
خوشا وہ دور کہ جب مرکز نگاہ تھے ہم
پڑا جو وقت تو اب کوئی روشناس نہیں
سراج لکھنوی
خدا وندا یہ کیسی صبح غم ہے
اجالے میں برستی ہے سیاہی
سراج لکھنوی
خبر رہائی کی مل چکی ہے چراغ پھولوں کے جل رہے ہیں
مگر بڑی تیز روشنی ہے قفس کا در سوجھتا نہیں ہے
سراج لکھنوی

