میں اچھا ہوں تبھی اپنا رہی ہو
کوئی مجھ سے بھی اچھا مل گیا تو
سراج فیصل خان
تو جا رہا تھا بچھڑ کے تو ہر قدم پہ ترے
پھسل رہی تھی مرے پاؤں سے زمین بہت
سراج فیصل خان
اس کے دل کی آگ ٹھنڈی پڑ گئی
مجھ کو شہرت مل گئی الزام سے
سراج فیصل خان
اس کی یادوں کی کائی پر اب تو
زندگی بھر مجھے پھسلنا ہے
سراج فیصل خان
وصل میں سوکھ گئی ہے مری سوچوں کی زمیں
ہجر آئے تو مری سوچ کو شاداب کرے
سراج فیصل خان
وہ ایک شخص جو دکھنے میں ٹھیک ٹھاک سا تھا
بچھڑ رہا تھا تو لگنے لگا حسین بہت
سراج فیصل خان
وہ کبھی آغاز کر سکتے نہیں
خوف لگتا ہے جنہیں انجام سے
سراج فیصل خان
زمیں میرے سجدے سے تھرا گئی
مجھے آسماں سے پکارا گیا
سراج فیصل خان
کئی دن بعد اس نے گفتگو کی
کئی دن بعد پھر اچھا ہوا میں
سراج فیصل خان

