EN हिंदी
سراج فیصل خان شیاری | شیح شیری

سراج فیصل خان شیر

34 شیر

میں تیرے ذکر کی وادی میں سیر کرتا رہوں
ہمیشہ لب پہ ترے نام کی مٹھاس رہے

سراج فیصل خان




تری حیات سے جڑ جاؤں واقعہ بن کر
تری کتاب میں میرا بھی اقتباس رہے

سراج فیصل خان




ترے احساس میں ڈوبا ہوا میں
کبھی صحرا کبھی دریا ہوا میں

سراج فیصل خان




تعلق توڑ کر اس کی گلی سے
کبھی میں جڑ نہ پایا زندگی سے

سراج فیصل خان




شاید اگلی اک کوشش تقدیر بدل دے
زہر تو جب جی چاہے کھایا جا سکتا ہے

سراج فیصل خان




میں منتظر ہوں کسی ایسے وصل کا جس میں
مرے بدن پہ ترے جسم کا لباس رہے

سراج فیصل خان




میں کہکشاؤں میں خوشیاں تلاشنے نکلا
مرے ستارہ میرا چاند سب اداس رہے

سراج فیصل خان




تم اس کو بلندی سے گرانے میں لگے ہو
تم اس کو نگاہوں سے گرا کیوں نہیں دیتے

سراج فیصل خان




میں سنگ میل تھا تو یہ کرنا پڑا مجھے
تا عمر راستے میں ٹھہرنا پڑا مجھے

سراج فیصل خان