سبھی زندگی پہ فریفتہ کوئی موت پر نہیں شیفتہ
سبھی سود خور تو ہو گئے ہیں کوئی پٹھان نہیں رہا
شجاع خاور
تنگئ ہیئت سے ٹکراتا ہوا جوش مواد
شاعری کا لطف آ جاتا ہے چھوٹی بحر میں
شجاع خاور
شجاعؔ موت سے پہلے ضرور جی لینا
یہ کام بھول نہ جانا بڑا ضروری ہے
شجاع خاور
شجاعؔ وہ خیریت پوچھیں تو حیرت میں نہ پڑ جانا
پریشاں کرنے والے خیر خواہوں میں بھی ہوتے ہیں
شجاع خاور
سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی
اور اس کے ساتھ گرمئ جذبات بھی گئی
شجاع خاور
ساتوں عالم سر کرنے کے بعد اک دن کی چھٹی لے کر
گھر میں چڑیوں کے گانے پر بچوں کی حیرانی دیکھو
شجاع خاور
رند کھڑے ہیں منبر منبر
اور واعظ نے پی رکھی ہے
شجاع خاور
تنہائی کا اک اور مزہ لوٹ رہا ہوں
مہمان مرے گھر میں بہت آئے ہوئے ہیں
شجاع خاور
سب کا ہی نام لیتے ہیں اک تجھ کو چھوڑ کر
خاصا شعور ہے ہمیں وحشت کے باوجود
شجاع خاور

