EN हिंदी
شجاع خاور شیاری | شیح شیری

شجاع خاور شیر

34 شیر

قلم میں زور جتنا ہے جدائی کی بدولت ہے
ملن کے بعد لکھنے والے لکھنا چھوڑ دیتے ہیں

شجاع خاور




اس بے وفا کا شہر ہے اور وقت شام ہے
ایسے میں آرزو بڑی ہمت کا کام ہے

شجاع خاور




اس کے بیان سے ہوئے ہر دل عزیز ہم
غم کو سمجھ رہے تھے چھپانے کی چیز ہم

شجاع خاور




اس کو نہ خیال آئے تو ہم منہ سے کہیں کیا
وہ بھی تو ملے ہم سے ہمیں اس سے ملیں کیا

شجاع خاور




وصل ہوا پر دل میں تمنا
جیسی تھی ویسی رکھی ہے

شجاع خاور




یا تو جو نافہم ہیں وہ بولتے ہیں ان دنوں
یا جنہیں خاموش رہنے کی سزا معلوم ہے

شجاع خاور




یہ دنیا داری اور عرفان کا دعویٰ شجاعؔ خاور
میاں عرفان ہو جائے تو دنیا چھوڑ دیتے ہیں

شجاع خاور




زندگی بھر زندہ رہنے کی یہی ترکیب ہے
اس طرف جانا نہیں بالکل جدھر کی سوچنا

شجاع خاور




ہزار رنگ میں ممکن ہے درد کا اظہار
ترے فراق میں مرنا ہی کیا ضروری ہے

شجاع خاور