نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کا
محبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میں
محمد رفیع سودا
سوداؔ ہوئے جب عاشق کیا پاس آبرو کا
سنتا ہے اے دوانے جب دل دیا تو پھر کیا
محمد رفیع سودا
سمجھے تھے ہم جو دوست تجھے اے میاں غلط
تیرا نہیں ہے جرم ہمارا گماں غلط
محمد رفیع سودا
ساقی ہماری توبہ تجھ پر ہے کیوں گوارہ
منت نہیں تو ظالم ترغیب یا اشارہ
محمد رفیع سودا
ساقی گئی بہار رہی دل میں یہ ہوس
تو منتوں سے جام دے اور میں کہوں کہ بس
you plead with me to take a drink and I say no more
محمد رفیع سودا
نوبت قیس ہو چکی آخر
اب تو سوداؔ کا باجتا ہے ناؤں
محمد رفیع سودا
نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے
ہماری خاک سے دیکھو تو کچھ رہا بھی ہے
محمد رفیع سودا
نہیں ہے گھر کوئی ایسا جہاں اس کو نہ دیکھا ہو
کنھیا سے نہیں کچھ کم صنم میرا وہ ہرجائی
محمد رفیع سودا
میں نے تم کو دل دیا اور تم نے مجھے رسوا کیا
میں نے تم سے کیا کیا اور تم نے مجھ سے کیا کیا
محمد رفیع سودا

