پکارتے ہیں انہیں ساحلوں کے سناٹے
جو لوگ ڈوب گئے کشتیاں بناتے ہوئے
سلیم کوثر
سانس لینے سے بھی بھرتا نہیں سینے کا خلا
جانے کیا شے ہے جو بے دخل ہوئی ہے مجھ میں
سلیم کوثر
سائے گلی میں جاگتے رہتے ہیں رات بھر
تنہائیوں کی اوٹ سے جھانکا نہ کر مجھے
سلیم کوثر
رات کو رات ہی اس بار کہا ہے ہم نے
ہم نے اس بار بھی توہین عدالت نہیں کی
سلیم کوثر
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں
سلیم کوثر
قدموں میں سائے کی طرح روندے گئے ہیں ہم
ہم سے زیادہ تیرا طلب گار کون ہے
سلیم کوثر
مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے
tho my sight unconversant with your features may not be
if or not you are the same come close and let me see,
سلیم کوثر
میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
I am in someone's outstretched hand, and in someone's prayer prayer I be
I am someone's destiny but someone else does ask for me
سلیم کوثر
میں نے جو لکھ دیا وہ خود ہے گواہی اپنی
جو نہیں لکھا ابھی اس کی بشارت دوں گا
سلیم کوثر

