سلیمؔ اب تک کسی کو بد دعا دی تو نہیں لیکن
ہمیشہ خوش رہے جس نے ہمارا دل دکھایا ہے
سلیم کوثر
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں
سلیم کوثر
قدموں میں سائے کی طرح روندے گئے ہیں ہم
ہم سے زیادہ تیرا طلب گار کون ہے
سلیم کوثر
پکارتے ہیں انہیں ساحلوں کے سناٹے
جو لوگ ڈوب گئے کشتیاں بناتے ہوئے
سلیم کوثر
مجھے سنبھالنے میں اتنی احتیاط نہ کر
بکھر نہ جاؤں کہیں میں تری حفاظت میں
سلیم کوثر
محبت اپنے لیے جن کو منتخب کر لے
وہ لوگ مر کے بھی مرتے نہیں محبت میں
سلیم کوثر
مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے
tho my sight unconversant with your features may not be
if or not you are the same come close and let me see,
سلیم کوثر
میں نے جو لکھ دیا وہ خود ہے گواہی اپنی
جو نہیں لکھا ابھی اس کی بشارت دوں گا
سلیم کوثر
میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
I am in someone's outstretched hand, and in someone's prayer prayer I be
I am someone's destiny but someone else does ask for me
سلیم کوثر

