EN हिंदी
صبا اکبرآبادی شیاری | شیح شیری

صبا اکبرآبادی شیر

35 شیر

عشق آتا نہ اگر راہ نمائی کے لئے
آپ بھی واقف منزل نہیں ہونے پاتے

صبا اکبرآبادی




مسافران رہ شوق سست گام ہو کیوں
قدم بڑھائے ہوئے ہاں قدم بڑھائے ہوئے

صبا اکبرآبادی




پستی نے بلندی کو بنایا ہے حقیقت
یہ رفعت افلاک بھی محتاج زمیں ہے

صبا اکبرآبادی




روشنی خود بھی چراغوں سے الگ رہتی ہے
دل میں جو رہتے ہیں وہ دل نہیں ہونے پاتے

صبا اکبرآبادی




رواں ہے قافلۂ روح التفات ابھی
ہماری راہ سے ہٹ جائے کائنات ابھی

صبا اکبرآبادی




سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمی
بندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں

صبا اکبرآبادی




سو بار جس کو دیکھ کے حیران ہو چکے
جی چاہتا ہے پھر اسے اک بار دیکھنا

صبا اکبرآبادی




ٹکڑے ہوئے تھے دامن ہستی کے جس قدر
دلق گدائے عشق کے پیوند ہو گئے

صبا اکبرآبادی




یہ ہمیں ہیں کہ ترا درد چھپا کر دل میں
کام دنیا کے بہ دستور کیے جاتے ہیں

tis only I who with your ache, in my heart replete
silently the tasks assigned, do sincerely complete

صبا اکبرآبادی