کب تک یقین عشق ہمیں خود نہ آئے گا
کب تک مکاں کا حال کہیں گے مکیں سے ہم
صبا اکبرآبادی
کفر و اسلام کے جھگڑے کو چکا دو صاحب
جنگ آپس میں کریں شیخ و برہمن کب تک
صبا اکبرآبادی
خواہشوں نے دل کو تصویر تمنا کر دیا
اک نظر نے آئنے میں عکس گہرا کر دیا
صبا اکبرآبادی
کون اٹھائے عشق کے انجام کی جانب نظر
کچھ اثر باقی ہیں اب تک حیرت آغاز کے
صبا اکبرآبادی
کمال ضبط میں یوں اشک مضطر ٹوٹ کر نکلا
اسیر غم کوئی زنداں سے جیسے چھوٹ کر نکلا
صبا اکبرآبادی
کام آئے گی مزاج عشق کی آشفتگی
اور کچھ ہو یا نہ ہو ہنگامۂ محفل سہی
صبا اکبرآبادی
جب عشق تھا تو دل کا اجالا تھا دہر میں
کوئی چراغ نور بداماں نہیں ہے اب
صبا اکبرآبادی
کیا مآل دہر ہے میری محبت کا مآل
ہیں ابھی لاکھوں فسانے منتظر آغاز کے
صبا اکبرآبادی
کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم
الجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہم
صبا اکبرآبادی

