EN हिंदी
رشید لکھنوی شیاری | شیح شیری

رشید لکھنوی شیر

24 شیر

گئے تھے حضرت زاہد تو زرد تھا چہرہ
شراب خانے سے نکلے تو سرخ رو نکلے

رشید لکھنوی




دونوں آنکھیں دل جگر ہیں عشق ہونے میں شریک
یہ تو سب اچھے رہیں گے مجھ پر الزام آئے گا

رشید لکھنوی




دل ہے شوق وصل میں مضطر نظر مشتاق دید
جو ہے مشغول اپنی اپنی سعئ لا حاصل میں ہے

رشید لکھنوی




دیکھیے لازم و ملزوم اسے کہتے ہیں
دل ہے داغوں کے لیے داغ مرے دل کے لیے

رشید لکھنوی




بتوں کے دل میں ہماری کچھ اب ہوئی ہے جگہ
خدا نے رحم کیا ورنہ مر گئے ہوتے

رشید لکھنوی




اپنی وحشت سے ہے شکوہ دوسرے سے کیا گلہ
ہم سے جب بیٹھا نہ جائے کوئے جاناں کیا کرے

رشید لکھنوی