گئے تھے حضرت زاہد تو زرد تھا چہرہ
شراب خانے سے نکلے تو سرخ رو نکلے
رشید لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
| 2 لائنیں شیری |
دونوں آنکھیں دل جگر ہیں عشق ہونے میں شریک
یہ تو سب اچھے رہیں گے مجھ پر الزام آئے گا
رشید لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
دل ہے شوق وصل میں مضطر نظر مشتاق دید
جو ہے مشغول اپنی اپنی سعئ لا حاصل میں ہے
رشید لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
| 2 لائنیں شیری |
دیکھیے لازم و ملزوم اسے کہتے ہیں
دل ہے داغوں کے لیے داغ مرے دل کے لیے
رشید لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
بتوں کے دل میں ہماری کچھ اب ہوئی ہے جگہ
خدا نے رحم کیا ورنہ مر گئے ہوتے
رشید لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |
اپنی وحشت سے ہے شکوہ دوسرے سے کیا گلہ
ہم سے جب بیٹھا نہ جائے کوئے جاناں کیا کرے
رشید لکھنوی
ٹیگز:
| 2 لائنیں شیری |