نہیں ہے جس میں تیرا عشق وہ دل ہے تباہی میں
وہ کشتی ڈوب جائے گی نہ جس میں نا خدا ہوگا
رشید لکھنوی
معشوق کون سا ہے نہ ہو دل میں جس کی یاد
اس مختصر سے باغ میں کس گل کی بو نہیں
رشید لکھنوی
خدا جانے یہ گردش کا طریقہ کب نکالا ہے
جسے کہتے ہیں گردوں اک مرے پاؤں کا چھالا ہے
رشید لکھنوی
اے گل اندام یہ ہے فصل جوانی کا عروج
حسن کا رنگ ٹپکنے کو ہے رخساروں سے
رشید لکھنوی
انتظار آپ کا ایسا ہے کہ دم کہتا ہے
نگہ شوق ہوں آنکھوں سے نکل جاؤں گا
رشید لکھنوی
ہوا ہے سخت مشکل دفن ہونا تیرے وحشی کا
جہاں پر قبر کھودی جاتی ہے پتھر نکلتے ہیں
رشید لکھنوی
ہمیشہ بے دلی کی کیجیے کیوں کر نہ دل داری
نہ ہونا پاس دل کا ہے نشانی ایک دلبر کی
رشید لکھنوی
ہماری زندگی و موت کی ہو تم رونق
چراغ بزم بھی ہو اور چراغ فن بھی ہو
رشید لکھنوی
ہنس ہنس کے کہہ رہا ہے جلانا ثواب ہے
ظالم یہ میرا دل ہے چراغ حرم نہیں
رشید لکھنوی

