اڑ چلا وہ اک جدا خاکہ لیے سر میں اکیلا
صبح کا پہلا پرندہ آسماں بھر میں اکیلا
راجیندر منچندا بانی
مرے واسطے جانے کیا لائے گی
گئی ہے ہوا اک کھنڈر کی طرف
راجیندر منچندا بانی
محبتیں نہ رہیں اس کے دل میں میرے لیے
مگر وہ ملتا تھا ہنس کر کہ وضع دار جو تھا
راجیندر منچندا بانی
اوس سے پیاس کہاں بجھتی ہے
موسلا دھار برس میری جان
راجیندر منچندا بانی
پیہم موج امکانی میں
اگلا پاؤں نئے پانی میں
راجیندر منچندا بانی
پھیلتی جائے گی چاروں سمت اک خوش رونقی
ایک موسم میرے اندر سے نکلتا جائے گا
راجیندر منچندا بانی
شامل ہوں قافلے میں مگر سر میں دھند ہے
شاید ہے کوئی راہ جدا بھی مرے لیے
راجیندر منچندا بانی
تھی پاؤں میں کوئی زنجیر بچ گئے ورنہ
رم ہوا کا تماشا یہاں رہا ہے بہت
راجیندر منچندا بانی
وہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا حسن آخر تھا
کہ چپ سی لگ گئی دونوں کو بات کرتے ہوئے
راجیندر منچندا بانی

