EN हिंदी
دیکھتا تھا میں پلٹ کر ہر آن | شیح شیری
dekhta tha main palaT kar har aan

غزل

دیکھتا تھا میں پلٹ کر ہر آن

راجیندر منچندا بانی

;

دیکھتا تھا میں پلٹ کر ہر آن
کس صدا کا تھا نہ جانے امکان

اس کی اک بات کو تنہا مت کر
وہ کہ ہے ربط نوا میں گنجان

ٹوٹی بکھری کوئی شے تھی ایسی
جس نے قائم کی ہماری پہچان

لوگ منزل پہ تھے ہم سے پہلے
تھا کوئی راستہ شاید آسان

سب سے کمزور اکیلے ہم تھے
ہم پہ تھے شہر کے سارے بہتان

اوس سے پیاس کہاں بجھتی ہے
موسلا دھار برس میری جان

کیا عجب شہر غزل ہے بانیؔ
لفظ شیطان سخن بے ایمان