EN हिंदी
پنڈت جواہر ناتھ ساقی شیاری | شیح شیری

پنڈت جواہر ناتھ ساقی شیر

26 شیر

قالب کو اپنے چھوڑ کے مقلوب ہو گئے
کیا اور کوئی قلب ہے اس انقلاب میں

پنڈت جواہر ناتھ ساقی




نگہ ناز سے اس چست قبا نے دیکھا
شوق بیتاب گل چاک گریباں سمجھا

پنڈت جواہر ناتھ ساقی




نیرنگ عشق آج تو ہو جائے کچھ مدد
پر فن کو ہم کریں متحیر کسی طرح

پنڈت جواہر ناتھ ساقی




نہیں کھلتا سبب تبسم کا
آج کیا کوئی بوسہ دیں گے آپ

پنڈت جواہر ناتھ ساقی




اپنے جنوں کدے سے نکلتا ہی اب نہیں
ساقی جو مے فروش سر رہ گزار تھا

پنڈت جواہر ناتھ ساقی




میری قسمت کی کجی کا عکس ہے
یہ جو برہم گیسوئے پر خم رہا

پنڈت جواہر ناتھ ساقی




محو لقا جو ہیں ملکوتی خصال ہیں
بیدار ہو کے بھی نظر آتے ہیں خواب میں

پنڈت جواہر ناتھ ساقی




کیا ہے چشم مروت نے آج مائل مہر
میں ان کی بزم سے کل آب دیدہ آیا تھا

پنڈت جواہر ناتھ ساقی




جذبۂ عشق چاہئے صوفی
جو ہے افسردہ اہل حال نہیں

پنڈت جواہر ناتھ ساقی