ملنا پڑتا ہے ہمیں خود سے بھی غیروں کی طرح
اس نے ماحول ہی کچھ ایسا بنا رکھا ہے
نصرت گوالیاری
میں اجنبی ہوں مگر تم کبھی جو سوچو گے
کوئی قریب کا رشتہ ضرور نکلے گا
نصرت گوالیاری
بچہ مجبوریوں کو کیا جانے
اک کھلونا خریدنا تھا مجھے
نصرت گوالیاری
کچھ احتیاط پرندے بھی رکھنا بھول گئے
کچھ انتقام بھی آندھی نے بدترین لیے
نصرت گوالیاری
کتنے ذہنوں کو کر گیا گمراہ
اک بڑے آدمی کا چھوٹا پن
نصرت گوالیاری
اک قسم اور زندہ رہنے کی
وار تیکھا سہی مقدر کا
نصرت گوالیاری
حسن اتنا ایک پیکر میں سمٹ سکتا نہیں
تو بھی میرے ہی کسی احساس کی تصویر ہے
نصرت گوالیاری
ہر شخص اپنی اپنی جگہ یوں ہے مطمئن
جیسے کہ جانتا ہو قضا کا ہے رخ کدھر
نصرت گوالیاری
ہم تری تلخ گفتگو سن کر
چپ ہیں لیکن سبب سمجھتے ہیں
نصرت گوالیاری

