شفق سی پھر کوئی اتری ہے مجھ میں
یہ کیسی روشنی پھیلی ہے مجھ میں
نصرت گوالیاری
میں اجنبی ہوں مگر تم کبھی جو سوچو گے
کوئی قریب کا رشتہ ضرور نکلے گا
نصرت گوالیاری
ملنا پڑتا ہے ہمیں خود سے بھی غیروں کی طرح
اس نے ماحول ہی کچھ ایسا بنا رکھا ہے
نصرت گوالیاری
مرے چراغ کی ننھی سی لو سے خائف ہے
عجیب وقت پڑا ہے سیاہ آندھی پر
نصرت گوالیاری
قانون جیسے کھو چکا صدیوں کا اعتماد
اب کون دیکھتا ہے خطا کا ہے رخ کدھر
نصرت گوالیاری
رات کے لمحات خونی داستاں لکھتے رہے
صبح کے اخبار میں حالات بہتر ہو گئے
نصرت گوالیاری
وہ اندھی راہ میں بینائیاں بچھاتا رہا
بدن پہ زخم لیے اور لبوں پہ دین لیے
نصرت گوالیاری
وہ پتا اپنی شاخ سے ذرا جدا ہوا ہی تھا
نہ جانے پھر کہاں کہاں ہوا اڑا کے لے گئی
نصرت گوالیاری
وہ گلابی بادلوں میں ایک نیلی جھیل سی
ہوش قائم کیسے رہتے تھا ہی کچھ ایسا لباس
نصرت گوالیاری

