مومن میں اپنے نالوں کے صدقے کہ کہتے ہیں
اس کو بھی آج نیند نہ آئی تمام شب
مومن خاں مومن
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح
مومن خاں مومن
رہ کے مسجد میں کیا ہی گھبرایا
رات کاٹی خدا خدا کر کے
مومن خاں مومن
راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا
کیا ایک بھی ہمارا خط یار تک نہ پہنچا
مومن خاں مومن
پیہم سجود پائے صنم پر دم وداع
مومنؔ خدا کو بھول گئے اضطراب میں
مومن خاں مومن
نے جائے واں بنے ہے نے بن جائے چین ہے
کیا کیجئے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح
مومن خاں مومن
ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم
لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے
مومن خاں مومن
نہ کرو اب نباہ کی باتیں
تم کو اے مہربان دیکھ لیا
مومن خاں مومن
محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا
رحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آ گیا
مومن خاں مومن

