خیال اس صف مژگاں کا دل میں آئے گا
ہمارے ملک میں بھرتی سپاہ کی ہوگی
مرزا مسیتابیگ منتہی
تارک دنیا ہے جب سے منتہیؔ
مثل بیوہ مادر ایام ہے
مرزا مسیتابیگ منتہی
تیرے بازار دہر میں گردوں
ہم بھی آئے ہیں اک قبا کے لئے
مرزا مسیتابیگ منتہی
تہمت جرم و خطا حرص و ہوا غفلت دل
ہم نے بازار سے ہستی کے لیا کیا کیا کچھ
مرزا مسیتابیگ منتہی
طفیل روح مرا جسم زار باقی ہے
ہوا کے دم سے یہ مشت غبار باقی ہے
مرزا مسیتابیگ منتہی
امید ہے ہمیں فردا ہو یا پس فردا
ضرور ہوئے گی صحبت وہ یار باقی ہے
مرزا مسیتابیگ منتہی
اس بت کو چھوڑ کر حرم و دیر پر مٹے
عقل شریف سے یہ نہایت بعید ہے
مرزا مسیتابیگ منتہی
یوں انتظار یار میں ہم عمر بھر رہے
جیسے نظر غریب کی اللہ پر رہے
مرزا مسیتابیگ منتہی
ہو جاتی ہے ہوا قفس تن سے چھٹ کے روح
کیا صید بھاگتا ہے رہا ہو کے دام سے
مرزا مسیتابیگ منتہی

