EN हिंदी
مرزا مسیتابیگ منتہی شیاری | شیح شیری

مرزا مسیتابیگ منتہی شیر

34 شیر

مسافرانہ رہا اس سرائے ہستی میں
چلا پھرا میں زمانہ میں رہ گزر کی طرح

مرزا مسیتابیگ منتہی




صدائے قلقل مینا مجھے نہیں آتی
مرے سوال کا شیشے میں کچھ جواب نہیں

مرزا مسیتابیگ منتہی




پیری ہوئی شباب سے اترا جھٹک گیا
شاعر ہوں میرا مصرع ثانی لٹک گیا

مرزا مسیتابیگ منتہی




پھاڑ ہی ڈالوں گا میں اک دن نقاب روئے یار
پھینک دوں گا کھود کر گلزار کی دیوار کو

مرزا مسیتابیگ منتہی




نہ بند کر اسے فصل بہار میں ساقی
نہ ڈال دختر رز کا اچار شیشے میں

مرزا مسیتابیگ منتہی




لطیف روح کے مانند جسم ہے کس کا
پیادہ کون وقار سوار رکھتا ہے

مرزا مسیتابیگ منتہی




خود رحم کیجیے دل امیدوار پر
آپھی نکالئے کوئی صورت نباہ کی

مرزا مسیتابیگ منتہی




سکھلا رہا ہوں دل کو محبت کے رنگ ڈھنگ
کرتا ہوں میں مکان کی تعمیر آج کل

مرزا مسیتابیگ منتہی




مجھ سا عاشق آپ سا معشوق تب ہووے نصیب
جب خدا اک دوسرا ارض و سما پیدا کرے

مرزا مسیتابیگ منتہی