EN हिंदी
میر محمدی بیدار شیاری | شیح شیری

میر محمدی بیدار شیر

43 شیر

نہیں کچھ ابر ہی شاگرد میری اشک باری کا
سبق لیتی ہے مجھ سے برق بھی آبے کراری کا

میر محمدی بیدار




محراب ابروئے بت کافر ادا کو دیکھ
کعبہ کا شیخ باندھ کے احرام رہ گیا

میر محمدی بیدار




مشاطہ دیکھ شانے سے تیرا کٹے گا ہاتھ
ٹوٹا گر ایک بال کبھو زلف یار کا

میر محمدی بیدار




مے کدے میں جو ترے حسن کا مذکور ہوا
سنگ غیرت سے مرا شیشۂ دل چور ہوا

میر محمدی بیدار




کیا ہو گر کوئی گھڑی یاں بھی کرم فرماؤ
آپ اس راہ سے آخر تو گزر کرتے ہیں

میر محمدی بیدار




کیا ہنگامۂ گل نے مرا جوش جنوں تازہ
ادھر آئی بہار ایدھر گریباں کا رفو ٹوٹا

میر محمدی بیدار




کس طرح حال دل کہوں اس گل سے باغ میں
پھرتی ہے اس کے ساتھ تو ہر دم صبا لگی

میر محمدی بیدار




خوشی ہے سب کو روز عید کی یاں
ہوئے ہیں مل کے باہم آشنا خوش

میر محمدی بیدار




جنوں نے دست کاری ایسی بھی کی
نہ تھا گویا گریباں پیرہن میں

میر محمدی بیدار