کیا ہو گر کوئی گھڑی یاں بھی کرم فرماؤ
آپ اس راہ سے آخر تو گزر کرتے ہیں
میر محمدی بیدار
محبت ایسے کی بیدارؔ سخت مشکل ہے
جو اپنی جان سے گزرے وہ اس کی چاہ کرے
میر محمدی بیدار
منت و عاجزی و زاری و آہ
تیرے آگے ہزار کر دیکھا
میر محمدی بیدار
محراب ابروئے بت کافر ادا کو دیکھ
کعبہ کا شیخ باندھ کے احرام رہ گیا
میر محمدی بیدار
مشاطہ دیکھ شانے سے تیرا کٹے گا ہاتھ
ٹوٹا گر ایک بال کبھو زلف یار کا
میر محمدی بیدار
مے کدے میں جو ترے حسن کا مذکور ہوا
سنگ غیرت سے مرا شیشۂ دل چور ہوا
میر محمدی بیدار
کس طرح حال دل کہوں اس گل سے باغ میں
پھرتی ہے اس کے ساتھ تو ہر دم صبا لگی
میر محمدی بیدار
جنوں نے دست کاری ایسی بھی کی
نہ تھا گویا گریباں پیرہن میں
میر محمدی بیدار
خوشی ہے سب کو روز عید کی یاں
ہوئے ہیں مل کے باہم آشنا خوش
میر محمدی بیدار

