EN हिंदी
مردان علی خاں رانا شیاری | شیح شیری

مردان علی خاں رانا شیر

49 شیر

نہ پوچھو ہم سفرو مجھ سے ماجرا وطن
وطن ہے مجھ پے فدا اور میں فدائے وطن

مردان علی خاں رانا




لے قضا احسان تجھ پر کر چلے
ہم ترے آنے سے پہلے مر چلے

مردان علی خاں رانا




لبوں پہ جان ہے اک دم کا اور میہماں ہے
مریض عشق و محبت کا تیرے حال یہ ہے

مردان علی خاں رانا




کیوں کر بڑھاؤں ربط نہ دربان یار سے
آخر کوئی تو ملنے کی تدبیر چاہئے

مردان علی خاں رانا




کی ریا سے نہ شیخ نے توبہ
مر گیا وہ گناہ گار افسوس

مردان علی خاں رانا




خدا را بہر استقبال جلد اے جان باہر آ
عیادت کو مری جان جہاں تشریف لاتے ہیں

مردان علی خاں رانا




خود غلط ہے جو کہے ہوتی ہے تقدیر غلط
کہیں قسمت کی بھی ہو سکتی ہے تحریر غلط

مردان علی خاں رانا




کھو گیا کوئے دلربا میں نظامؔ
لوگ کہتے ہیں مارواڑ میں ہے

مردان علی خاں رانا




کھینچا ہے عکس قلب کی فوٹوگراف میں
شیشے میں ہے شبیہ پری کوہ قاف میں

مردان علی خاں رانا