EN हिंदी
مردان علی خاں رانا شیاری | شیح شیری

مردان علی خاں رانا شیر

49 شیر

کیوں کر بڑھاؤں ربط نہ دربان یار سے
آخر کوئی تو ملنے کی تدبیر چاہئے

مردان علی خاں رانا




نہ نکلی حسرت دل ایک بھی ہزار افسوس
عدم سے آئے تھے کیا کیا ہم آرزو کرتے

مردان علی خاں رانا




نہ آئی بات تک بھی منہ پہ رعب حسن جاناں سے
ہزاروں سوچ کر مضمون ہم دربار میں آئے

مردان علی خاں رانا




مرض عشق کو شفا سمجھے
درد کو درد کی دوا سمجھے

مردان علی خاں رانا




میں شوق وصل میں کیا ریل پر شتاب آیا
کہ صبح ہند میں تھا شام پنچ آب آیا

مردان علی خاں رانا




لے قضا احسان تجھ پر کر چلے
ہم ترے آنے سے پہلے مر چلے

مردان علی خاں رانا




لبوں پہ جان ہے اک دم کا اور میہماں ہے
مریض عشق و محبت کا تیرے حال یہ ہے

مردان علی خاں رانا




خود غلط ہے جو کہے ہوتی ہے تقدیر غلط
کہیں قسمت کی بھی ہو سکتی ہے تحریر غلط

مردان علی خاں رانا




کھینچا ہے عکس قلب کی فوٹوگراف میں
شیشے میں ہے شبیہ پری کوہ قاف میں

مردان علی خاں رانا