میرے تلووں کے لہو سے ہوگی روشن ہر جہت
رہروان راہ منزل ہوں گے ششدر دیکھنا
محفوظ الرحمان عادل
ان سفینوں کی تباہی میں ہے عبرت کا سبق
جو کنارے تک پہنچ کر نذر طوفاں ہو گئے
محفوظ الرحمان عادل
اسی نے بخشا ہے مجھ کو شعور جینے کا
جو مشکلوں کی گھڑی بار بار آئی ہے
محفوظ الرحمان عادل
وقت کی گردشوں کا غم نہ کرو
حوصلے مشکلوں میں پلتے ہیں
محفوظ الرحمان عادل
وہ جگا کر ہم کو سب خوش منظری لے جائے گا
خواب کیا ہے خواب کی تعبیر بھی لے جائے گا
محفوظ الرحمان عادل
وہ لالہ بدن جھیل میں اترا نہیں ورنہ
شعلے متواتر اسی پانی سے نکلتے
محفوظ الرحمان عادل
وہ مری آوارہ گردی وہ مرا دیوانہ پن
وہ مری تعظیم میں دیوار و در کا جاگنا
محفوظ الرحمان عادل
یہ بھی ہے مارا ہوا ساقی کی چشم ناز کا
اس لئے عادلؔ کو شیشے کی پری اچھی لگی
محفوظ الرحمان عادل
زندگی کو حوصلہ دینے کے خاطر
خواہشوں کو ریزہ ریزہ چن رہا ہوں
محفوظ الرحمان عادل

