EN हिंदी
ماتم فضل محمد شیاری | شیح شیری

ماتم فضل محمد شیر

24 شیر

کوئی آزاد ہو تو ہو یارو
ہم تو ہیں عشق کے اسیروں میں

ماتم فضل محمد




خط دیکھ کر مرا مرے قاصد سے یوں کہا
کیا گل نہیں ہوا وہ چراغ سحر ہنوز

ماتم فضل محمد




جہاں سے ہوں یہاں آیا وہاں جاؤں گا آخر کو
مرا یہ حال ہے یارو نہ مستقبل نہ ماضی ہوں

ماتم فضل محمد




آج کل جو کثرت شوریدگان عشق ہے
روز ہوتے جاتے ہیں حداد نوکر سیکڑوں

ماتم فضل محمد




عشق خوباں نہیں ہے ایسی شے
باندھ کر رکھئے جس کو پڑیا میں

ماتم فضل محمد




ہندو بچہ نے چھین کے دل مجھ سے یوں کہا
ہندوستاں بھی کشور ترکاں سے کم نہیں

ماتم فضل محمد




ہاتھ کا بازو کا گردن کا کمر کا کس کے
ہم کو تعویذوں میں یہی چار ہی بھائے تعویذ

ماتم فضل محمد




دیتا ہے روز روز دلاسے نئے نئے
کس طرح اعتبار ہو حافظؔ کے فال پر

ماتم فضل محمد




دیکھ کر ہاتھ میں تسبیح گلے میں زنار
مجھ سے بیزار ہوئے کافر و دیں دار جدا

ماتم فضل محمد