EN हिंदी
خواجہ میر دردؔ شیاری | شیح شیری

خواجہ میر دردؔ شیر

62 شیر

قتل سے میرے وہ جو باز رہا
کسی بد خواہ نے کہا ہوگا

خواجہ میر دردؔ




سیر بہار باغ سے ہم کو معاف کیجیئے
اس کے خیال زلف سے دردؔ کسے فراغ ہے

خواجہ میر دردؔ




سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں

خواجہ میر دردؔ




ساقیا! یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے

خواجہ میر دردؔ




ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر
لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا

خواجہ میر دردؔ




روندے ہے نقش پا کی طرح خلق یاں مجھے
اے عمر رفتہ چھوڑ گئی تو کہاں مجھے

خواجہ میر دردؔ




رات مجلس میں ترے حسن کے شعلے کے حضور
شمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا

خواجہ میر دردؔ




قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا
پر ترے عہد سے آگے تو یہ دستور نہ تھا

خواجہ میر دردؔ




مت جا تر و تازگی پہ اس کی
عالم تو خیال کا چمن ہے

خواجہ میر دردؔ