EN हिंदी
کفیل آزر امروہوی شیاری | شیح شیری

کفیل آزر امروہوی شیر

19 شیر

میں اپنے آپ سے ہر دم خفا رہتا ہوں یوں آزرؔ
پرانی دشمنی ہو جس طرح دو خاندانوں میں

کفیل آزر امروہوی




یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعد
غزل کسی کو کہا ہی نہیں ہے تیرے بعد

کفیل آزر امروہوی




یہ حادثہ بھی ترے شہر میں ہوا ہوگا
تمام شہر مجھے ڈھونڈھتا پھرا ہوگا

کفیل آزر امروہوی




اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے
شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

کفیل آزر امروہوی




اداسی کا سمندر دیکھ لینا
مری آنکھوں میں آ کر دیکھ لینا

کفیل آزر امروہوی




تمہاری بزم سے نکلے تو ہم نے یہ سوچا
زمیں سے چاند تلک کتنا فاصلہ ہوگا

کفیل آزر امروہوی




تم کو ماحول سے ہو جائے گی نفرت آزرؔ
اتنے نزدیک سے دیکھا نہ کرو یاروں کو

کفیل آزر امروہوی




صبح لے جاتے ہیں ہم اپنا جنازہ گھر سے
شام کو پھر اسے کاندھوں پہ اٹھا لاتے ہیں

کفیل آزر امروہوی




میرے ہاتھوں سے کھلونے چھین کر
مجھ کو زخموں کی کہانی دے گیا

کفیل آزر امروہوی