کسی کا عہد جوانی میں پارسا ہونا
قسم خدا کی یہ توہین ہے جوانی کی
جوشؔ ملیح آبادی
ملے جو وقت تو اے رہرو رہ اکسیر
حقیر خاک سے بھی ساز باز کرتا جا
جوشؔ ملیح آبادی
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلالؔ روز حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عذاب تیرا
جوشؔ ملیح آبادی
میرے رونے کا جس میں قصہ ہے
عمر کا بہترین حصہ ہے
جوشؔ ملیح آبادی
محفل عشق میں وہ نازش دوراں آیا
اے گدا خواب سے بیدار کہ سلطاں آیا
جوشؔ ملیح آبادی
کوئی آیا تری جھلک دیکھی
کوئی بولا سنی تری آواز
جوشؔ ملیح آبادی
کام ہے میرا تغیر نام ہے میرا شباب
میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب
جوشؔ ملیح آبادی
اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی
جھک کے میں نے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا؟
جوشؔ ملیح آبادی
جتنے گدا نواز تھے کب کے گزر چکے
اب کیوں بچھائے بیٹھے ہیں ہم بوریا نہ پوچھ
جوشؔ ملیح آبادی

