EN हिंदी
جوشؔ ملیح آبادی شیاری | شیح شیری

جوشؔ ملیح آبادی شیر

43 شیر

مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید
لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا

جوشؔ ملیح آبادی




میرے رونے کا جس میں قصہ ہے
عمر کا بہترین حصہ ہے

جوشؔ ملیح آبادی




محفل عشق میں وہ نازش دوراں آیا
اے گدا خواب سے بیدار کہ سلطاں آیا

جوشؔ ملیح آبادی




کوئی آیا تری جھلک دیکھی
کوئی بولا سنی تری آواز

جوشؔ ملیح آبادی




کسی کا عہد جوانی میں پارسا ہونا
قسم خدا کی یہ توہین ہے جوانی کی

جوشؔ ملیح آبادی




کشتیٔ مے کو حکم روانی بھی بھیج دو
جب آگ بھیج دی ہے تو پانی بھی بھیج دو

جوشؔ ملیح آبادی




کام ہے میرا تغیر نام ہے میرا شباب
میرا نعرہ انقلاب و انقلاب و انقلاب

جوشؔ ملیح آبادی




جتنے گدا نواز تھے کب کے گزر چکے
اب کیوں بچھائے بیٹھے ہیں ہم بوریا نہ پوچھ

جوشؔ ملیح آبادی




اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی
جھک کے میں نے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا؟

جوشؔ ملیح آبادی